صحيح مسلم - حدیث 951

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ تَقْدِيمِ الْجَمَاعَةِ مَنْ يُصَلِّي بِهِمْ إِذَا تَأَخَّرَ الْإِمَامُ وَلَمْ يَخَافُوا مَفْسَدَةً بِالتَّقْدِيمِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: ذَهَبَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَقَ الصُّفُوفَ حَتَّى قَامَ عِنْدَ الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ وَفِيهِ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجَعَ الْقَهْقَرَى

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 951

کتاب: نماز کے احکام ومسائل جب امام کی آمد میں تاخیر ہو جائے اور کسی دوسرے کو آگے کرنے میں فتنہ وفساد کا خوف نہ ہو تو کسی کو جماعت کے لیے آگے کر دینا (جائز ہے) عبید اللہ نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت سہل بن سعد ساعدی﷜ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبیﷺ قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کرانے تشریف لے گئے .... آگے مذکورہ بالا راویوں کے مانند (حدیث بیان کی) اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ رسول اللہﷺ آئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف کے قریب کھڑے ہو گئے۔ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ابو بکر﷜ الٹے پاؤں پیچھے لوٹ آئے۔