صحيح مسلم - حدیث 947

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ اسْتِخْلَافِ الْإِمَامِ إِذَا عَرَضَ لَهُ عُذْرٌ مِنْ مَرَضٍ وَسَفَرٍ، وَغَيْرِهِمَا مَنْ يُصلِّي بِالنَّاسِ، صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ: " نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ، فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ، كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا، قَالَ: «فَأَوْمَأَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ، وَأَرْخَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 947

کتاب: نماز کے احکام ومسائل ۔ جب امام کو مرض، سفر یا کسی اور وجہ سے عذر پیش آ جائے تو لوگوں میں سے کسی کو نماز پڑھانے کے لیے اپنا جانشیں (خلیفہ) مقرر کرنا ا ۔ عبد العزیز نے حضرت انس ﷜ سے حدیث بیان کی کہ نبیﷺ (بیماری کے ایام میں) تین دن ہماری طرف تشریف نہ لائے، (انہی دنوں میں سے) ایک دن نماز کھڑی کی گئی اور ابو بکر ﷜ آگے بڑھنے لگے تو نبیﷺ (کمرے کے) پردے کی طرف بڑھے اور اسے اٹھا دیا، جب ہمارے سامنے نبیﷺ کا رخ انور کھلا تو ہم نے کبھی ایسا منظر نہ دیکھا تھا جو ہمارے لیے، نبیﷺ کے چہرہ مبارک کے نظارے سے، جو ہمارے سامنے تھا، زیادہ حسین اور پسندیدہ ہو۔ وہ کہتے ہیں: پھر آپﷺ نے ابوبکر ﷜ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ آگے بڑھیں اور آپ نے پردہ گرا دیا، پھر آپ وفات تک ایسا نہ کر سکے۔