كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ التَّشهُّدِ فِي الصَّلَاةِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ قَتَادَةَ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ قَتَادَةَ مِنَ الزِّيَادَةِ» وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ فَإِنَّ اللهَ قَالَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» إِلَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ، وَحْدَهُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: قَالَ أَبُو بَكْرِ: ابْنُ أُخْتِ أَبِي النَّضْرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ. فَقَالَ مُسْلِمٌ: تُرِيدُ أَحْفَظَ مِنْ سُلَيْمَانَ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: فَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ فَقَالَ: هُوَ صَحِيحٌ يَعْنِي وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا فَقَالَ: هُوَ عِنْدِي صَحِيحٌ فَقَالَ: لِمَ لِمَ تَضَعْهُ هَا هُنَا؟ قَالَ: لَيْسَ كُلُّ شَيْءٍ عِنْدِي صَحِيحٍ وَضَعْتُهُ هَا هُنَا إِنَّمَا وَضَعْتُ هَا هُنَا مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ
کتاب: نماز کے احکام ومسائل نماز میں تشہد ابو اسامہ نے سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی، نیز معاذ بن ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، اسی طرح جریر نے سلیمان تیمی سے خبر دی، ان سب (ابن ابی عروبہ، ہشام اور سلیمان) نے قتادہ سے اسی (سابقہ) حدیث کے مانند روایت کی، البتہ قتادہ سے سلیمان اور ان سے جریر کی بیان کردہ حدیث میں یہ اضافہ ہے: ’’ جب امام پڑھے تو تم غور سے سنو۔‘‘ اور ابو عوانہ کے شاگرد کامل کی حدیث کے علاوہ ان میں سے کسی کی حدیث میں : ’’اللہ عزوجل نے اپنے نبیﷺ کی زبان سے فرمایا ہے: ’’ اللہ نے اسے سن لیا جس نے اس کی حمد کی۔‘‘ کے الفاظ نہیں ہیں۔ ابو اسحاق نے کہا: ابو نضر کے بھانجے ابو بکر نے اس حدیث کے متعلق بات کی تو امام مسلم نے کہا: آپ کو سلیمان سے بڑا حافظ چاہیے؟ اس پر ابو بکر نے امام مسلم سے کہا: ابو ہریرہ کی حدیث؟ پھر (ابو بکر نے) کہا: وہ صحیح ہے، یعنی (یہ اضافہ کہ) جب امام پڑھے تو تم خاموش رہو۔ امام مسلم نے (جوابا) کہا: وہ میرے نزدیک بھی صحیح ہے۔ تو ابو بکر نے کہا: آپ نے اسے یہاں کیوں نہ رکھا (درج کیا)؟ (امام مسلم نے جواباً) کہا: ہر وہ چیز جو میرے نزدیک صحیح ہے، میں نے اسے یہاں نہیں رکھا۔ یہاں میں نے صرف ان (احادیث) کو رکھا جن (کی صحت) پر انہوں (محدثین) نے اتفاق کیا ہے۔