صحيح مسلم - حدیث 897

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ التَّشهُّدِ فِي الصَّلَاةِ صحيح حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، - قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: السَّلَامُ عَلَى اللهِ السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ. فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: " إِنَّ اللهَ هُوَ السَّلَامُ، فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ، فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنَ الْمَسْأَلَةِ مَا شَاءَ "

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 897

کتاب: نماز کے احکام ومسائل نماز میں تشہد ۔ جریر نے منصور سے، انہوں نے ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود)﷜ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نماز میں رسول اللہﷺ کے پیچھے کہتے تھے: اللہ پر سلام ہو، فلاں پر سلام ہو۔ (بخاری کی روایت میں جبریل پر میکائیل پر سلام ہو۔) تو ایک دن رسول اللہﷺ نے ہم سے فرمایا: ’’بلاشبہ اللہ خود سلام ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے: بقا وبادشاہت، اختیار وعظمت اللہ ہی کےلیے ہے، اور ساری دعائیں اور ساری پاکیزہ چیزیں (بھی اسی کےلیے ہیں)، اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ جب کوئی شخص یہ (دعائیہ) کلمات کہے گا تو یہ آسمان و زمین میں اللہ کے ہر نیک بندے تک پہنچیں گے۔ (پھر کہے:) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کےبندے اور رسول ہیں، پھر جو مانگنا چاہے اس کا انتخاب کر لے۔‘‘