صحيح مسلم - حدیث 895

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ: الْبَسْمَلَةُ آيَةٌ مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ سِوَى بَرَاءَةٌ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: أَغْفَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً، بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حَوْضٌ» وَلَمْ يَذْكُرْ «آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 895

کتاب: نماز کے احکام ومسائل ان لوگوں کی دلیل جن کے نزدیک بسم اللہ سورہ براءت کے سوا ہر سورت کی ابتدا میں ایک آیت ہے ابن فضیل نے مختار بن فلفل سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک﷜ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے، (آگے) جس طرح ابن مسہر کی حدیث ہے، البتہ انہوں (ابن فضیل) نے یہ الفاظ کہے: ’’ ایک نہر ہے جس کا میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے اور اس پر ایک حوض ہے۔‘‘ اور یہ نہیں کہا: ’’ اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں کے برابر ہے۔‘‘