صحيح مسلم - حدیث 894

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ: الْبَسْمَلَةُ آيَةٌ مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ سِوَى بَرَاءَةٌ صحيح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَى إِغْفَاءَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَقُلْنَا: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ» فَقَرَأَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ. فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ. إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ} [الكوثر: 2] ثُمَّ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟» فَقُلْنَا اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، عَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ، هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ، فَأَقُولُ: رَبِّ، إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ: مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَكَ " زَادَ ابْنُ حُجْرٍ، فِي حَدِيثِهِ: بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ. وَقَالَ: «مَا أَحْدَثَ بَعْدَكَ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 894

کتاب: نماز کے احکام ومسائل ان لوگوں کی دلیل جن کے نزدیک بسم اللہ سورہ براءت کے سوا ہر سورت کی ابتدا میں ایک آیت ہے علی بن حجر سعدی اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے (الفاظ انہی کے ہیں) علی بن مسہر سے روایت کی، انہوں نے مختار بن فلفل سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک﷜ سے روایت کی، کہا: ایک روز رسول اللہﷺ ہمارے درمیان تھے جب اسی اثناء میں آپ کچھ دیر کے لیے نیند جیسی کیفیت میں چلے گئے، پھر آپ مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کس بات پر ہنسے؟ آپ نے فرمایا: ’’ ابھی مجھ پر ایک سورت نازل کی گئی ہے۔‘‘ پھر آپ نے پڑھا: ﴿ بِسْمِ اللَّـہِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِیمِ إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ ﴿﴾ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ﴿﴾ إِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْأَبْتَرُ ﴿﴾﴾ ’’بلاشبہ ہم آپ کو کوثر عطا کی۔ پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں، یقیناً آپ کا دشمن ہی جڑ کٹا ہے۔‘‘ پھر آپ نے کہا: ’’ کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ ‘‘ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’ وہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب عزوجل نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے، اس پر بہت بھلائی ہے اور وہ ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت پانی پینے کےلیے آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں۔ ان میں سے ایک شخص کو کھینچ لیا جائے گا تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میری امت سے ہے۔ تو وہ فرمائے گا: آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئی باتیں نکالیں۔‘‘ (علی) ابن حجر نے اپنی حدیث میں (یہ) اضافہ کیا: آپ مسجد میں ہمارے درمیان تھے اور (أحدثوا بعدک کی جگہ) أحدث بعدک ’’اس نے نئی بات نکالی‘‘ کہا۔