صحيح مسلم - حدیث 892

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ حُجَّةِ مَنْ قَالَ لَا يُجْهَرُ بِالْبَسْمَلَةِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، كَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ يَقُولُ: «سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، تَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ‘وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلَفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا يَذْكُرُونَ {بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] فِي أَوَّلِ قِرَاءَةٍ وَلَا فِي آخِرِهَا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 892

کتاب: نماز کے احکام ومسائل ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں: بسم اللہ بلند آواز سے نہیں پڑھی جائے گی وزاعی نے عبدہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب ﷜ یہ کلمات بلند آواز سے پڑھتے تھے: سبحانک اللہم! وبحمدک، تبارک اسمک وتعالی جدک، ولا إلہ غیرک ’’اے اللہ! تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے۔ تیرا نام بڑا بابرکت ہے اور تیری عظمت وشان بڑی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ (نیز اوزاعی ہی کی) قتادہ﷫ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس﷜ سے (اپنی) روایت کی خبر دیتے ہوئے ان (اوزاعی) کی طرف لکھ بھیجا کہ انہوں نے (انس﷜) نے قتادہ کو حدیث سنائی، کہا: میں نے نبیﷺ، ابو بکر، عمر اورعثمان﷢ کے پیچھے نماز پڑھی ہے، وہ (نماز کا) آغاز الحمد للہ رب العالمین سے کرتے تھے، وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم (بلند آواز سے) نہیں کہتے تھے، نہ قراءت کے شروع میں اور نہ اس کے آخر میں ہی (دوسری سورت کے آغاز پر