كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ نَهْيِ الْمَأْمُومِ عَنْ جَهْرِهِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ إِمَامِهِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ، فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «أَيُّكُمْ قَرَأَ» - أَوْ أَيُّكُمُ الْقَارِئُ - فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا، فَقَالَ: «قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا»
کتاب: نماز کے احکام ومسائل مقتدی کو امام کے پیچھے بلند آواز سے قراءت کرنے کی ممانعت شعبہ نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے سنا، وہ حضرت عمران بن حصین سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی تو ایک آدمی نے آپ کے پیچھے ﴿سبح اسم ربک الأعلی﴾ پڑھی شروع کر دی۔ جب آپﷺ نے اسلام پھیرا تو فرمایا: ’’تم میں سے کس نے پڑھا‘‘ یا (فرمایا:) ’’تم میں سے پڑھنے والا کون ہے؟ ‘‘ ایک آدمی نے کہا: میں ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’ میں سمجھا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس میں الجھا رہا ہے