صحيح مسلم - حدیث 887

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ نَهْيِ الْمَأْمُومِ عَنْ جَهْرِهِ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ إِمَامِهِ صحيح حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ - أَوِ الْعَصْرِ - فَقَالَ: «أَيُّكُمْ قَرَأَ خَلْفِي بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى؟» فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ، قَالَ: «قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 887

کتاب: نماز کے احکام ومسائل مقتدی کو امام کے پیچھے بلند آواز سے قراءت کرنے کی ممانعت ابو عوانہ نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین﷜ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے ہمیں ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: ’’ تم میں سے کس نے میرے پیچھے ﴿سبح اسم ربک الأعلی﴾ پڑھی؟‘‘ تو ایک آدمی نے کہا: میں نے، اور خیر کے سوا اس سے میں اورکچھ نہیں چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ’’مجھے علم ہو گیا کہ تم میں سے کوئی مجھے اس (یعنی قراءت) میں الجھا رہا ہے۔‘‘