كِتَابُ الصَّلَاةِ بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَإِنَّهُ إِذَا لَمْ يُحْسِنِ الْفَاتِحَةَ، وَلَا أَمْكَنَهُ تَعَلُّمُهَا قَرَأَ مَا تَيَسَّرَ لَهُ مِنْ غَيْرِهَا صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاحِيَةٍ، وَسَاقَا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ وَزَادَا فِيهِ «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغِ الْوُضُوءَ، ثُمَّ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ فَكَبِّرْ»
کتاب: نماز کے احکام ومسائل ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کی فرضیت اور اگر (کوئی) فاتحہ اچھی طرح نہ پڑھ سکتا ہو اور نہ اس کے لیے اس کا سیکھنا ہی ممکن ہو تو فاتحہ کے سوا جو پڑھنا آسان ہو، پڑھ ابو اسامہ او رعبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے، انہوں نے سعید بن ابی سعید سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی، رسول اللہﷺ ایک جانب (تشریف فرما) تھے ...... پھر دونوں نے اسی واقعے کی مانند حدیث بیان کی اور (حدیث کے حصے) میں ان دونوں نے یہ اضافہ کیا: ’’ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو خوب اچھی طرح وضو کرو، پھر قبلے کی طرف رخ کرو، پھر تکبیر کہو۔‘‘