صحيح مسلم - حدیث 774

كِتَابُ الْحَيْضِ بَابُ مَا يُسْتَتَرُ بِهِ لِقَضَاءِ الْحَاجَةِ صحيح حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ. فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ «وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ» قَالَ ابْنُ أَسْمَاءَ فِي حَدِيثِهِ: «يَعْنِي حَائِطَ نَخْلٍ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 774

کتاب: حیض کا معنی و مفہوم قضائے حاجت کرتے وقت کس چیز سے خود کو چھپایا جائے شیبان بن فروخ اور عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی نے کہا: ہمیں مہدی بن میمون نے حدیث سنائی ، کہا: ہمیں محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب نے حسن بن علی کے آزاد کر دہ غلام حسن بن سعد کے حوالےسے حضرت عبد اللہ بن جعفر﷜ سے حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا: ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا ، پھر مجھے ایک راز کی بات بتائی جو میں کسی شخص کو نہیں بتاؤں گا ، قضائے حاجت کے لیے آپ کی محبوب ترین اوٹ ٹیلایا کھجور کا جھنڈ تھا۔ (حدیث کے ایک راوی محمد) ابن اسماء نے اپنی حدیث میں کہا: حائش نخل سے مراد حائط نخل ’’کھجور کا باغ یا جھنڈ ‘‘ ہے ۔