كِتَابُ التَّفْسِيرِ بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ} [الإسراء: 57] صحيح حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ قَالَ كَانَ نَفَرٌ مِنْ الْإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ فَأَسْلَمَ النَّفَرُ مِنْ الْجِنِّ وَاسْتَمْسَكَ الْإِنْسُ بِعِبَادَتِهِمْ فَنَزَلَتْ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ
کتاب: قرآن مجید کی تفسیر کا بیان اللہ تعالیٰ کے فرمان:" وہ لوگ جنھیں یہ(کافر) پکارتے ہیں وہ خود ا پنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں" کی تفسیر سفیان نے اعمش سے انھوں نے ابراہیم سے،انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے (اس آیت کے متعلق) روایت کی:"وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں،وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔"(ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا:انسانوں کی ایک جماعت جنوں کی ایک جماعت کی پرستش کرتی تھی،تو جنوں کی جماعت نے اسلام قبول کرلیا اور انسان بدستور ان کی عبادت سے لگے رہے۔اس پر(یہ آیت) نازل ہوئی:"وہ لوگ جنھیں یہ پکارتے ہیں،وہ خود اپنے رب کی طرف (کسی نیک عمل کا) وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔"