كِتَابُ الْحَيْضِ بَابُ الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ، وَغُسْلِ أَحَدِهَمَا بِفَضْلِ الْآخَرِ صحيح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، ح، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنْ سَفِينَةَ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ» وَفِي حَدِيثِ ابْنِ حُجْرٍ، أَوْ قَالَ: وَيُطَهِّرُهُ الْمُدُّ، وَقَالَ: وَقَدْ كَانَ كَبِرَ وَمَا كُنْتُ أَثِقُ بِحَدِيثِهِ
کتاب: حیض کا معنی و مفہوم غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک ( ہی ) حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا ابو بکر بن ابی شیبہ اورعلی بن حجر نے اسماعیل بن علیہ سے، انہوں نے ابو ریحانہ سے ، انہوں نےحضرت سفینہؓ سے ( ابو بکر نےکہا:) رسول اللہ ﷺ کے صحابی ( حضرت سفینہ) سے روایت کی ، انہوں نےکہا: رسول اللہ ﷺ ایک صاع پانی سے غسل فرماتے اور ایک مد پانی سے وضو فرمالیتے ۔ (علی) ابن حجر کی روایت میں ہے کہ یا ( ابو ریحانہ نے ایک مد سے وضو فرما لیتے تھے کے بجائے)’’ایک مدپانی سے آپ کا وضو ہو جاتاتھا‘‘ کہا۔ ابو ریحانہ نے کہا: سفینہ عمر رسیدہ ہو گئے تھے ، اس لیے مجھے ان کی حدیث پر اعتماد و وثوق نہیں ہے ۔