صحيح مسلم - حدیث 7212

كِتَابُ الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا بَابُ عَرْضِ مَقْعَدِ الْمَيِّتِ مِنَ الْجَنَّةِ أَوِ النَّارِ عَلَيْهِ، وَإِثْبَاتِ عَذَابِ الْقَبْرِ وَالتَّعَوُّذِ مِنْهُ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَالْجَنَّةُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَالنَّارُ قَالَ ثُمَّ يُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي تُبْعَثُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 7212

کتاب: جنت‘اس کی نعمتیں اور اہل جنت میت کے لیے جنت یادوزخ کا ٹھکانا اس کے سامنے پیش کیا جا تا ہے عذاب قبر کا اثبات اور اس سے پناہ مانگنا سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکاناپیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہوتوجنت اور اگر اہل دوزخ میں سے ہوتو دوزخ (اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے) "کہا: پھر کہا جاتا ہے یہ تمھارا وہی ٹھکانا ہے جس کی طرف قیامت کے دن تجھے دوبارہ اٹھاکر لے جایا جائے گا۔"