كِتَابُ الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا بَابٌ فِي صِفَةِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَعَانَنَا اللهُ عَلَى أَهْوَالِهَا صحيح حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنِي الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تُدْنَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ الْخَلْقِ حَتَّى تَكُونَ مِنْهُمْ كَمِقْدَارِ مِيلٍ قَالَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَعْنِي بِالْمِيلِ أَمَسَافَةَ الْأَرْضِ أَمْ الْمِيلَ الَّذِي تُكْتَحَلُ بِهِ الْعَيْنُ قَالَ فَيَكُونُ النَّاسُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فِي الْعَرَقِ فَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى كَعْبَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يَكُونُ إِلَى حَقْوَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ إِلْجَامًا قَالَ وَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى فِيهِ
کتاب: جنت‘اس کی نعمتیں اور اہل جنت روز قیامت کے احوال اللہ اس کی ہولناکیوں کے سامنے ہماری مدد فرمائے عبد الرحمٰن بن جابر سے روایت ہے کہا مجھے نیلم بن عامر نے حدیث بیان کی ،کہا: مجھے حضرت مقدادبن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ،کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:"قیامت کے دن سورج مخلوقات کے بہت نزدیک آجائے گا حتی کہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہو گا۔ نیلم بن عامر نے کہا: اللہ کی قسم!مجھے معلوم نہیں کہ میل سے ان (مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کی مراد مسافت ہے یا وہ سلائی جس سے آنکھ میں سرمہ ڈالاجاتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں(ڈوبے) ہوں گےان میں سے کوئی اپنے دونوں ٹخنوں تک کو ئی اپنے دونوں گھٹنوں تک کوئی اپنے دونوں کولہوں تک اور کوئی ایسا ہو گا جسے پسینے نے لگام ڈال رکی ہو گی۔"(مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ )کہا: اور(ایسا فرماتےہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ فرمایا۔