كِتَابُ الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا بَابُ النَّارُ يَدْخُلُهَا الْجَبَّارُونَ وَالْجَنَّةُ يَدْخُلُهَا الضُّعَفَاءُ صحيح حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا
کتاب: جنت‘اس کی نعمتیں اور اہل جنت آگ میں سرکش اور جبر کرنے والے لوگ داخل ہوں گے اور جنت میں(اسباب دنیا کے لحاظ سے) کمزور لوگ داخل ہوں گے سہیل کے والد(ابو صالح) نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اہل جہنم کے دو قسمیں ایسی ہیں جن کو(دنیوی زندگی میں) میں نے (خود) نہیں دیکھا۔ایک گروہ وہ ہے جس کے پاس گایوں کی دموں کی طرح سے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کوماریں گے اور(دوسرے گروہ میں) وہ عورتیں ہیں جو لباس پہنے ہوئے(بھی) ننگی ہوں گی ،دوسروں کو(گناہ پر) مائل کرنے والی ،خود مائل ہونے والی ہوں گی ان کے سر(علاقہ) بخت کی اونٹنیوں کے ایک طرف جھکے ہوئے کوہانوں جیسے ہوں گے۔یہ عورتیں جنت میں داخل ہوں گی نہ اسکی خوشبو سونگھیں گی۔حالانکہ اس کی خوشبو اتنے اتنے (لمبے) فاصلے سےمحسوس ہوتی ہوگی۔"