كِتَابُ الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا بَابُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ طُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمَّا خَلَقَهُ قَالَ اذْهَبْ فَسَلِّمْ عَلَى أُولَئِكَ النَّفَرِ وَهُمْ نَفَرٌ مِنْ الْمَلَائِكَةِ جُلُوسٌ فَاسْتَمِعْ مَا يُجِيبُونَكَ فَإِنَّهَا تَحِيَّتُكَ وَتَحِيَّةُ ذُرِّيَّتِكَ قَالَ فَذَهَبَ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالُوا السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَزَادُوهُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ فَكُلُّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ آدَمَ وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا فَلَمْ يَزَلْ الْخَلْقُ يَنْقُصُ بَعْدَهُ حَتَّى الْآنَ
کتاب: جنت‘اس کی نعمتیں اور اہل جنت جنت میں ایسی اقوام داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے ہمام بن منبہ سے روایت ہے انھوں نے کہا: یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ان میں سے (ایک) یہ ہے کہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"اللہ عزوجل نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی (پسندیدہ) صورت پر پیدا فرمایا،ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا جب ان کو تخلیق فرمالیا تو فرمایا :جائیں اور اس (سامنے والی) جماعت کو سلام کہیں۔اور وہ فرشتوں کی جماعت ہے جو بیٹھے ہوئے ہیں اور جس طرح وہ آپ کو سلام کہیں اسے غور سے سنیں ،وہی آپ کا اور آپ کی اولاد کا سلام ہو گا ۔فرمایا وہ گئے اور کہا: السلام علیک انھوں نے (جواب میں)کہا: السلام علیک ورحمۃ اللہ فرمایا:انھوں نےان(آدم علیہ السلام )کے لیے ورحمۃ اللہ کا اضافہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہو گا آدم علیہ السلام کی(اسی) صورت پر ہوگا اور ان کی قامت (جنت میں)ساٹھ ہاتھ تھی پھر ان کے بعد آج تک (ان کی اولاد کی)خلقت چھوٹی ہوتی رہی ہے۔"