كِتَابُ الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا بَابٌ فِي صِفَاتِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِهَا وَتَسْبِيحِهِمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا صحيح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ قَالُوا فَمَا بَالُ الطَّعَامِ قَالَ جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالتَّحْمِيدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفَسَ
کتاب: جنت‘اس کی نعمتیں اور اہل جنت جنت اور اہل جنت کی صفات اور اس میں صبح و شام ان کی تسبیحات جریر نے اعمش سے، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا:میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا،"اہل جنت وہاں کھائیں گے پئیں گے۔لیکن نہ اس میں تھوکیں گے نہ پیشاب کریں گے، نہ رفع حاجت کریں گے اور نہ ناک سنکیں گے ۔"انھوں (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین )نے پوچھا : پھر ان کے کھانے کا کیا بنے گا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ایک ذکاء(آئےگی)اور کستوری کے پسینے کی طرح پسینہ آئے گا ۔ان کو تسبیح اور حمد (کے نغمے)اسی طرح (فطرت کے اندر)الہام کردیے جائیں گے۔جس طرح سانس کو الہام (کر کے ان کی فطرت میں شامل )کردیا جاتاہے۔"