كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ بَابُ إِكْثَارِ الْأَعْمَالِ وَالِاجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ صحيح حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَفَطَّرَ رِجْلَاهُ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام باب: زیادہ سے زیادہ عمل کرنا اور عبادت میں پوری کوشش صرف کرنا عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو (بہت لمبا) قیام کرتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ایسا کرتے ہیں ۔حالانکہ آپ کے اگلےپچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کی(یقین دہانی کرائی) جاچکی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !کیا میں (اللہ تعالیٰ کا)شکرگزار بندہ نہ بنوں؟"