كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ بَابُ إِكْثَارِ الْأَعْمَالِ وَالِاجْتِهَادِ فِي الْعِبَادَةِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى حَتَّى انْتَفَخَتْ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ أَتَكَلَّفُ هَذَا وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَقَالَ أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا
کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام باب: زیادہ سے زیادہ عمل کرنا اور عبادت میں پوری کوشش صرف کرنا ابو عوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی (اتنی لمبی) نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ آپ سے کہاگیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں؟حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلےگناہوں کی مغفرت فرمادی ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟"