كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ بَابُ لَنْ يَدْخُلَ أَحَدٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ بَلْ بِرَحْمَةِ اللهِ تَعَالَى صحيح حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِيَانِ ابْنَ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ مِثْلَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنْ الْجِنِّ وَقَرِينُهُ مِنْ الْمَلَائِكَةِ
کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام محض اپنے عمل سے کو ئی شخص جنت میں نہیں جا ئے گا بلکہ اللہ کی رحمت سے جائے گا سفیان اور عمار بن رزیق دونوں نے منصور سے جریر کی سند کے ساتھ انھی کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر سفیان کی حدیث میں ہے :"ہر شخص کے لیے ایک ساتھی جنوں میں سے اور ایک ساتھی فرشتوں میں سے مقرر کر دیاہے۔(جن اسے برائی کی طرف مائل کرتا ہے اور فرشتہ نیکی کی طرف ۔فیصلہ خود اسی کو کرنا ہوتا ہے۔)