صحيح مسلم - حدیث 7102

كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ بَابُ تَحْرِيشِ الشَّيْطَانِ وَبَعْثِهِ سَرَايَاهُ لِفِتْنَةِ النَّاسِ وَأَنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ قَرِينًا صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ شِبْهِ أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ لَعَلَّ مُسْلِمًا قَالَ وَتُؤْتِي أُكُلَهَا وَكَذَا وَجَدْتُ عِنْدَ غَيْرِي أَيْضًا وَلَا تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا فَقَالَ عُمَرُ لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 7102

کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لیے شیطان کا اپنے لشکروں کو اکسانا اور ان کو اس کام کے لیے بھیجنا،نیز ہر انسان کے ہمراہ ہمیشہ ایک ساتھ رہنے والا شیطان موجود رہتا ہے۔ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے،آپ نے فرمایا:"مجھے اس درخت کے متعلق بتاؤ جو ایک مسلمان آدمی سے مشابہ یا(فرمایا:) کی طرح ہے،اس کے پتے نہیں جھڑتے۔" (امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کےشاگرد) ابراہیم(بن سفیان) نے کہا:غالباً(ہمارے شیخ) امام مسلم نے"اور وہ(درخت) اپنا پھل دیتاہے"کہا ہوگا(لیکن میرے پاس" نہیں دیتا"لکھا ہے) اور میں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہاں بھی(ان کے نسخوں میں) یہی پایا ہے:اور وہ ہر وقت اپنا پھل نہیں دیتا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:تو میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔مگر میں نے حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھاکہ وہ نہیں بول رہے تھے تو میں نے یہ بات ناپسندی کہ میں بولوں اور کچھ کہوں،چنانچہ(میری بات سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:اگر تم یہ بات کہہ دیتے تو مجھے یہ فلاں فلاں (سرخ اونٹوں) سے زیادہ پسندہوتا۔