كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ بَابُ جَزَاءِ الْمُؤْمِنِ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَتَعْجِيلِ حَسَنَاتِ الْكَافِرِ فِي الدُّنْيَا صحيح حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْكَافِرَ إِذَا عَمِلَ حَسَنَةً أُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنْ الدُّنْيَا وَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَإِنَّ اللَّهَ يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى طَاعَتِهِ
کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام مومن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دینا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کو اس کی نیکیوں کا صلہ فوری طور پر دنیا ہی میں مل جاتا ہے معتمر کے والد(سلیمان) نے کہا:ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی:"بلاشبہ ایک کافر جب کوئی نیک کام کر تا ہے۔ تو اس کے بدلے اسے دنیاکے کھانوں(نعمتوں) میں سے ایک لقمہ(نعمت کی صورت میں)کھلادیتاہے اور مومن اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کا ذخیرہ آخرت میں کرتا جاتا ہے۔اور اس کی اطاعت شعاری پر دنیا میں(بھی) اسے رزق عطا فرماتا ہے۔"