صحيح مسلم - حدیث 7089

كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ بَابُ جَزَاءِ الْمُؤْمِنِ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَتَعْجِيلِ حَسَنَاتِ الْكَافِرِ فِي الدُّنْيَا صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطَى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الْآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 7089

کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام مومن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دینا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کو اس کی نیکیوں کا صلہ فوری طور پر دنیا ہی میں مل جاتا ہے ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے ،انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا۔اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے۔رہا کافر،اسے نیکیوں کے بدلے میں جو اس نے دنیا میں اللہ کے لئے کی ہوتی ہیں،اسی دنیا میں کھلا(پلا) دیا جاتاہے حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی جس کی اسے جزا دی جائے۔"