صحيح مسلم - حدیث 7085

كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ بَابُ طَلَبِ الْكَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الْأَرْضِ ذَهَبًا صحيح حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَالُ لَهُ قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 7085

کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام کافر کا اپنے چھٹکارے کے لئے زمین بھر سونے کو طلب کرنا ہشام(دستوائی) نے قتادہ سےروایت کی،کہا:ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا:تمہارا کیا خیال ہے،اگر تمہارے پاس زمین(کی مقدار) بھر سونا موجود ہوتو کیا تم(جہنم کے عذاب سے بچنے کے لئے) اس کو بطور فدیہ دے دو گے؟وہ کہے گا:ہاں،تو اس سے کہا جائے گا:تم سے تو اس سے بہت آسان مطالبہ کیاگیا تھا۔"