صحيح مسلم - حدیث 7083

كِتَابُ صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ بَابُ طَلَبِ الْكَافِرِ الْفِدَاءَ بِمِلْءِ الْأَرْضِ ذَهَبًا صحيح حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ كَانَتْ لَكَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ أَحْسِبُهُ قَالَ وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْكَ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 7083

کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام کافر کا اپنے چھٹکارے کے لئے زمین بھر سونے کو طلب کرنا معاذ عنبری نے کہا:ہمیں شعبہ نے ابو عوان جونی سے،انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ،انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛" اللہ تبارک وتعالیٰ اس شخص سے ،جسے اہل جہنم میں سب سے کم عذاب ہوگا،فرمائے گا:اگر پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے۔تمہارے پاس ہوتو(عذاب سے چھوٹ جانے کے لئے) اسے بطور فدیہ دے دو گے؟وہ کہے گا:ہاں ،تو وہ(اللہ تعالیٰ) فرمائے گا:میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے،اس کی نسبت بہت کم کا مطالبہ کیا تھا کہ تم شرک نہ کرنا۔میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(آگے یہ) فرمایا۔۔۔اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا،مگر تم نے شرک(کرنے) کے سوا ہر چیز سے انکارکردیا۔"