كِتَابُ الْعِلْمِ بَابُ رَفْعِ الْعِلْمِ وَقَبْضِهِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ وَالْفِتَنِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ صحيح حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيُلْقَى الشُّحُّ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ
کتاب: علم کا بیان آخری زمانے میں علم میں اٹھ جانا، واپس لے لیا جانا اور جہالت اور فتنوں کا نمودار ہونا یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "زمانہ باہم قریب ہو جائے گا (وقت بہت تیزی سے گزرتا ہوا محسوس ہو گا)، علم اٹھا لیا جائے گا، فتنے نمودار ہوں گے، (دلوں میں) بخل اور حرص ڈال دیا جائے گا اور ہرج کثرت سے ہو گا۔" صحابہ نے پوچھا: ہرج کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قتل و غارت گری۔"