كِتَابُ الْقَدرِ بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُولَدُ يُولَدُ عَلَى هَذِهِ الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ كَمَا تَنْتِجُونَ الْإِبِلَ فَهَلْ تَجِدُونَ فِيهَا جَدْعَاءَ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ صَغِيرًا قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
کتاب: تقدیر کا بیان (فرمان نبوی: ) "ہر بچہ پیدا ہونے والے بچے کی ولادت فطرت پر ہوتی ہے" کا مفہوم اور کافروں اور مسلمانوں کے فوت ہو جانے والے بچوں کا حکم؟ معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائیں، پھر انہوں نے کئی احادیث بیان کیں، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو (بچہ) پیدا ہوتا ہے، وہ اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں جس طرح تم اونٹوں کے بچوں کو جنم دلواتے ہو۔ کیا تم ان میں سے کسی کو کان کٹا ہوا پاتے ہو؟ یہاں تک کہ تم خود اس کا کان کاٹ دو" لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے دیکھا کہ اگر وہ چھوٹا ہی فوت ہو جائے؟ فرمایا: "اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے وہ (چھوٹی عمر میں فوت ہونے والے بچے) کیا عمل کرنے والے تھے۔"