كِتَابُ الْقَدرِ بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ صحيح حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُشَرِّكَانِهِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ
کتاب: تقدیر کا بیان (فرمان نبوی: ) "ہر بچہ پیدا ہونے والے بچے کی ولادت فطرت پر ہوتی ہے" کا مفہوم اور کافروں اور مسلمانوں کے فوت ہو جانے والے بچوں کا حکم؟ جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کوئی ولادت پانے والا نہیں مگر وہ فطرت ہی پر پیدا ہوا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی اور مشرک بنا دیتے ہیں۔" ایک آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! اگر وہ اس سے پہلے مر جائے؟ آپ نے فرمایا: "اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ (بڑے ہو کر) وہ بچے کیا عمل کرنے والے تھے۔"