كِتَابُ الْقَدرِ بَابُ مَعْنَى كُلِّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ وَحُكْمِ مَوْتِ أَطْفَالِ الْكُفَّارِ وَأَطْفَالِ الْمُسْلِمِينَ صحيح حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ثُمَّ يَقُولُ اقْرَءُوا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ
کتاب: تقدیر کا بیان (فرمان نبوی: ) "ہر بچہ پیدا ہونے والے بچے کی ولادت فطرت پر ہوتی ہے" کا مفہوم اور کافروں اور مسلمانوں کے فوت ہو جانے والے بچوں کا حکم؟ یونس بن یزید نے ابن شہاب سے روایت کی، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کوئی پیدا ہونے والا بچہ نہیں مگر اس کی ولادت فطرت پر ہوتی ہے۔" پھر (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کہتے: یہ آیت پڑھ لو: "یہی اللہ کی (عطا کردہ) فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کی تخلیق کی، اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہو گی، یہی سیدھا مستحکم دین ہے (جس کی انسانی فطرت امانت دار ہے۔)"