صحيح مسلم - حدیث 659

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ وُجُوبِ غُسْلِ الْبَوْلِ وَغَيْرِهِ مِنَ النَّجَاسَاتِ إِذَا حَصَلَتْ فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَّ الْأَرْضَ تَطْهُرُ بِالْمَاءِ، مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ إِلَى حَفْرِهَا صحيح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعُوهُ وَلَا تُزْرِمُوهُ» قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 659

کتاب: پاکی کا بیان جب پیشاب یا کوئی اور نجاست مسجد میں لگ گئی ہوتواسے دھونا ضروری ہے اورزمین پانی سے پاک ہو جاتا ہے اس کے کھودنے کی ضرورت نہیں ثابت نے حضرت انس ﷜ سےروایت کی کہ ایک بدوی نے مسجد میں پیشاب (کرنا شروع ) کر دیا ، بعض لوگ اٹھ کر اس کی طرف لپکے تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا:’’اسے چھوڑ دو، اسے ( پیشاب کے) درمیان میں مت روکو۔‘‘ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا۔ (پانی کے ساتھ وہ پیشاب زمین کےاندر چلا گیا۔)