صحيح مسلم - حدیث 653

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ حُكْمِ وُلُوغِ الْكَلْبِ صحيح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، سَمِعَ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللهِ عَنِ ابْنِ الْمُغَفَّلِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ: «مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلَابِ؟» ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَكَلْبِ الْغَنَمِ، وَقَالَ: «إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ فِي التُّرَابِ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 653

کتاب: پاکی کا بیان جس برتن کو کتا جھوٹا کر دے ، اس کا حکم عبید اللہ بن معاذ نے ہمیں اپنےوالد سے حدیث بیان کی (کہا:)ہمیں میرے والد نے ، انہیں شعبہ نے ابو التیاح سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی۔ اور انہوں نے مطرف بن عبد اللہ سے سنا، ابن مغفل ﷜ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، پھر فرمایا:’’ان کا کتوں سے کیا واسطہ ہے ؟‘‘ پھر (لوگوں سے ضروریات کی تفصیل سن کر ) شکار اور بکریوں ( کی حفاظت کرنے )والے کتے (رکھنے) کی اجازت دی اور فرمایا:’’جب کتا برتن میں سے پی لے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اورآٹھویں بار( زیادہ روایات میں ہے ایک بار) مٹی سے صاف کرو