كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُم بَاب مُؤَاخَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ صحيح حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، قَالَ: قِيلَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ؟» فَقَالَ أَنَسٌ: «قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ»
کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو آپس میں بھائی بنانا:۔ حفص بن غیاث نے کہا:ہمیں عاصم احول نے حدیث بیان کی،انھوں نے کہا:حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا:کیا آپ تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛"اسلام میں حلیف بننا بنانا(جائز)نہیں"؟حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکان میں قریش اور انصار کو ایک دوسرے کا حلیف بنایا تھا۔