كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُم بَاب مِنْ فَضَائِلِ غِفَارَ وَأَسْلَمَ وَجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ وَمُزَيْنَةَ وَتَمِيمٍ وَدَوْسٍ وَطَيِّئٍ صحيح حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ لِي: «إِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ، صَدَقَةُ طَيِّئٍ، جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب غفار،اسلم جہینہ اشجع مزینہ ،تمیم ،دوس اور طے کے فضائل عدی بن حاتم سے روایت ہے،کہا: میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو انھوں نے مجھ سے کہا: سب سے پہلا صدقہ (باقاعدہ وصول شدہ زکاۃ) جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے چہروں کو روشن کر دیا تھا بنو طے کا صدقہ تھا ،جس کو آپ (عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر آئے تھے۔