كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ جَوَازِ الصَّلَوَاتِ كُلِّهِا بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ح، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَّى الصَّلَوَاتِ يَوْمَ الْفَتْحِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ» فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ، قَالَ: «عَمْدًا صَنَعْتُهُ يَا عُمَرُ»
کتاب: پاکی کا بیان ایک وضو سے تمام نمازیں ادا کرنے کا جواز سلیمان بن بریدہ (اسلمی ) نے اپنے والد سے روایت کی نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن کئی نمازیں ایک وضو سے پڑھیں اوراپنے موزوں پر مسح فرمایا ۔ حضرت عمر نے آپ سے پوچھا: آپ نے آج ایسا کام کیا جو آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا ۔ آپ نے جواب دیا:’’عمر!میں نے عمداً ایسا کیا ہے ۔ ‘‘