كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُم بَاب ذِكْرِ حَدِيثِ أُمِّ زَرْعٍ صحيح وحَدَّثَنِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: عَيَايَاءُ طَبَاقَاءُ، وَلَمْ يَشُكَّ، وَقَالَ: قَلِيلَاتُ الْمَسَارِحِ، وَقَالَ: وَصِفْرُ رِدَائِهَا، وَخَيْرُ نِسَائِهَا، وَعَقْرُ جَارَتِهَا وَقَالَ: وَلَا تَنْقُثُ مِيرَتَنَا تَنْقِيثًا، وَقَالَ: وَأَعْطَانِي مِنْ كُلِّ ذَابِحَةٍ زَوْجًا
کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب ام زرع رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کا بیان سعید بن سلمہ نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ بیان کی، مگر (ساتویں کے خاوندکے متعلق ) شک کے بغیر :"عاجز اور ماندہ ہے عقل پر حماقت کی تہیں لگی ہو ئی ہیں " کہا: اور (دسویں کے خاوند کے متعلق ) کہا: (اس کی اونٹنیاں ) چراگا ہوں میں کم بھیجی جا تی ہیں (خدام باڑے میں چارہ مہیا کرتے ہیں۔)اور (ابو زرع کی بیٹی کےبارے میں ) کہا: اس کی اوڑھنے کی چادر خالی لگتی ہے (اس کا پیٹ بڑھا ہوا نہیں ہے جبکہ ملء کسائہاسے مراد ہے کہ جسم کے باقی حصے لباس کو بھر دیتے ہیں ) قبیلے کی بہترین عورت ہے اور(اپنی خوبصورتی اور وقار کی بناپر) سوکن کے لیے نیزے کا زخم (دردوتکلیف کا سبب) ہے اور (خادمہ کے بارے میں اس طرح ) کہا: "وہ ہمارا کھا نا ضائع نہیں کرتی ۔"اور ("وَأَعْطَانِی مِنْ کُلِّ رَائِحَۃٍ زَوْجًا"کے بجائے ) وأعطانی من کل ذابحۃٍ زوجاً، (اور مجھے ہر اعلیٰ درجے کی خوشبو دار چیز میں سے دگنا دگنا دیا)کہا۔