صحيح مسلم - حدیث 6273

كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُم بَاب فَضَائِلِ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْكَ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيهِ إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ، فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ، فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنِّي، وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَقُلْ: سَمِعْتُ وَلَمْ يَقُلْ فِي الْحَدِيثِ: وَمِنِّي

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 6273

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل:۔ ابو بکر بن ابی شیبہ،ابو کریب اور ابن نمیر نے کہا:ہمیں ابن فضیل نے عمارہ سے حدیث بیان کی،انھوں نے ابو زرعہ سے ،انھوں نےکہا:میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا،انھوں نے کہا:حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ خدیجہ ہیں ،آپ کے پاس آئی ہیں،ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن ہے یا کھانا ہے یا مشروب ہے ،چنانچہ جب یہ آپ کے پاس آجائیں تو انھیں ان کے رب عزوجل کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور انھیں جنت میں ایک گھر کی خوش خبری دیں جو(موتیوں کی) لمبی چھڑیوں کا بنا ہواہے،نہ اس میں کوئی شور ہے اور نہ تھکاوٹ کا گزر ہے۔ ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں کہا:"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے ۔"انھوں نے"میں نے سنا"(کا لفظ) نہیں کہا اور نہ ہی حدیث میں "اورمیری طرف سے"(کالفظ) کہا ہے۔