صحيح مسلم - حدیث 6192

كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُم بَاب مِنْ فَضَائِلِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صحيح حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ، عَلَيْهَا دَلْوٌ، فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ، وَفِي نَزْعِهِ، وَاللهُ يَغْفِرُ لَهُ، ضَعْفٌ، ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 6192

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے انھیں خبر دی،انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، کہتے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فر ما رہےتھے۔"میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود ایک کنویں پر دیکھا اس پر ایک ڈول تھا میں نے اس میں جتنا اللہ نے چا ہا پانی نکالا ،پھر ابن ابی قحافہ نے اس سے ایک یا دوڈول نکالے ،اللہ ان کی مغفرت کرے!ان کے پانی نکا لنے میں کچھ کمزوری تھی ،پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو عمر بن خطاب نے اسے پکڑ لیا،چنانچہ میں نے لوگوں میں کو ئی ایسا عبقری (غیر معمولی صلاحیت کا مالک) نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب کی طرح سے پانی نکا لے حتی کہ لو گ اونٹوں کو (سیراب کر کے گھاٹ سے سے باہر)آرام کرنے کی جگہ پر لے گئے۔"