كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ الَاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ مِنَ التَّبرُّزِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَخَلَ حَائِطًا وَتَبِعَهُ غُلَامٌ مَعَهُ مِيضَأَةٌ، هُوَ أَصْغَرُنَا، فَوَضَعَهَا عِنْدَ سِدْرَةٍ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صلَّى اللهِ عليْهِ وسلَّمَ حَاجَتَهُ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَدِ اسْتَنْجَى بِالْمَاءِ»
کتاب: پاکی کا بیان قضائے حاجت کے بعد پانی سے استنجا کرنا خالد ( ھذاء) نے عطاء بن ابی میمونہ سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک احاطے میں داخل ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک لڑکا بھی چلا گیا جس کے پاس وضو کا برتن تھا، وہ ہم میں سب سے چھوٹا تھا، اس نے اسے ایک بیری کےدرخت کے پاس رکھ دیا، رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کی اور پانی سے استنجا کر کے ہمارے پاس تشریف لائے ۔