صحيح مسلم - حدیث 6183

كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُم بَاب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صحيح حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً لَهُ، قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا، الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ الْبَقَرَةُ فَقَالَتْ: إِنِّي لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا، وَلَكِنِّي إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ " فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ تَعَجُّبًا وَفَزَعًا، أَبَقَرَةٌ تَكَلَّمُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَإِنِّي أُومِنُ بِهِ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بَيْنَا رَاعٍ فِي غَنَمِهِ، عَدَا عَلَيْهِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ مِنْهَا شَاةً، فَطَلَبَهُ الرَّاعِي حَتَّى اسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الذِّئْبُ فَقَالَ لَهُ: مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي؟ " فَقَالَ النَّاسُ: سُبْحَانَ اللهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ، أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 6183

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل :۔ یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے سعد بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبد الرحمان (بن عوف ) نے حدیث سنائی کہ ان دونوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ،کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :" ایک شخص اپنی گا ئے کو ہانک رہاتھا اس پر بو جھ لادا ہوا تھا ۔اس گائے نے منہ پیچھے کیا اور کہا: مجھے اس کا م کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ کھیتی باڑی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔"لوگوں نے تعجب اور حیرت سے کہا: سبحان اللہ ! کیا گائے بولتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا :"(کسی اور کو یقین ہو نہ ہو )میرا ابو بکر کا اور عمر کا اس پر ایمان ہے۔"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا :" ایک چرواہااپنی بکریوں میں (مو جود )تھا کہ بھیڑیے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑلی،چرواہا اس کے پیچھے لگ گیا حتی کہ اس بکری کو بھیڑیے سے بچا لیا ۔اس(بھیڑیے ) نے کہا: اس دن اسے کون بچا ئے گا جب درندوں (کے حملے) کا دن آئے گا اور میرے سوا اس کا چرواہا (مالک) کو ئی نہ ہو گا ؟"لوگوں نے کہا : سبحان اللہ !تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا :"میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں اور ابو بکر اور عمر (بھی یقین رکھتے ہیں ۔)