صحيح مسلم - حدیث 6181

كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُم بَاب مِنْ فَضَائِلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صحيح حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي مَرَضِهِ " ادْعِي لِي أَبَا بَكْرٍ، أَبَاكِ، وَأَخَاكِ، حَتَّى أَكْتُبَ كِتَابًا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَمَنَّى مُتَمَنٍّ وَيَقُولُ قَائِلٌ: أَنَا أَوْلَى، وَيَأْبَى اللهُ وَالْمُؤْمِنُونَ إِلَّا أَبَا بَكْرٍ "

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 6181

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل :۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے،کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے(آخری) مرض کے دوران میں مجھ سے فرمایا؛"اپنے والد ابو بکر اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں،مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے گا اور کہنے والا کہے گا:میں زیادہ حقدار ہوں جبکہ اللہ بھی ابو بکر کے سوا(کسی اور کی جانشینی) سے انکار فرماتا ہے اور مومن بھی۔"