صحيح مسلم - حدیث 6155

كِتَابُ الْفَضَائِلِ بَاب مِنْ فَضَائِلِ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صحيح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ لُطِمَ وَجْهُهُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَلَا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوِ اكْتَفَى بِصَعْقَةِ الطُّورِ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 6155

کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فضائل ابو احمد زبیری نے کہا : ہمیں سفیان نے عمرو بن یحییٰ سے، انھوں نےاپنے والد سے، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جس کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا تھا۔ اس کے بعد زہری کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی، مگر انھوں نے (یوں)کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : )"مجھے معلوم نہیں وہ (موسیٰ علیہ السلام ) ان میں سے تھے جنھیں بے ہوشی تو ہو ئی لیکن افاقہ مجھ سے پہلے ہو گیا۔یا کوہ طور کا صعقہ کافی سمجھا گیا ۔"