كِتَابُ الْفَضَائِلِ بَاب فَضْلِ النَّظَرِ إِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَنِّيهِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ وَلَا يَرَانِي، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ مَعَهُمْ» قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: الْمَعْنَى فِيهِ عِنْدِي، لَأَنْ يَرَانِي مَعَهُمْ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ، وَهُوَ عِنْدِي مُقَدَّمٌ وَمُؤَخَّرٌ
کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے اور اس کی تمنا کرنے کی فضیلت ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں ،انھوں نے کئی حدیثیں بیان کیں،ان میں یہ(بھی)تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! تم لوگوں میں سے کسی پروہ دن ضرورآئے گا ۔کہ وہ مجھے نہیں دیکھ سکے گا ۔اور میری زیارت کرنا اس کے لیے اپنے اس سارے اہل اور مال سے زیادہ محبوب ہو گا جو ان کے پاس ہو گا ۔"(امام مسلم کے شاگرد )ابو اسحاق (ابرا ہیم بن محمد ) نے کہا : میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ وہ شخص مجھے اپنے سب لوگوں کے ساتھ دیکھے ،میں اس کے نزدیک اس کے اہل ومال سے زیادہ محبوب ہوں گا ۔اس میں تقدیم و تا خیر ہو ئی ہے۔