صحيح مسلم - حدیث 6128

كِتَابُ الْفَضَائِلِ بَاب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ مَا ذَكَرَهُ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَوْمٍ يُلَقِّحُونَ، فَقَالَ: «لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا لَصَلُحَ» قَالَ: فَخَرَجَ شِيصًا، فَمَرَّ بِهِمْ فَقَالَ: «مَا لِنَخْلِكُمْ؟» قَالُوا: قُلْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: «أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ»

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 6128

کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان شریعت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فر ما یا اس پر عمل واجب ہے جہاں آپ نے دنیوی امور کے بارے میں محض اپنی را ئے کا اظہار فرما یا ہے(اس پر عمل واجب نہیں ) حماد بن سلمہ نے ہشام بن عروہ سے، انھوں نے اپنے والد سے، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ۔اور حماد ہی نے ثابت سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جو کھجوروں میں گابھہ لگا رہے تھے ،آپ نے فر ما یا :" اگر تم یہ نہ کروتو(بھی ) ٹھیک رہے گا۔"کہا:اس کے بعد گٹھلیوں کے بغیر روی کھجور یں پیدا ہو ئیں ،پھرکچھ دنوں کے بعد آپ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے فر ما یا :" تمھا ری کھجوریں کیسی رہیں ؟"انھوں نے کہا : آپ نے اس اس طرح فر ما یا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا :"تم اپنی دنیا کے معاملا ت کو زیادہ جاننے والے ہو۔"