كِتَابُ الْفَضَائِلِ بَاب وُجُوبِ امْتِثَالِ مَا قَالَهُ شَرْعًا دُونَ مَا ذَكَرَهُ مِنْ مَعَايِشِ الدُّنْيَا عَلَى سَبِيلِ الرَّأْيِ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الرُّومِيِّ الْيَمَامِيُّ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، قَالَ: قَدِمَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ، يَقُولُونَ يُلَقِّحُونَ النَّخْلَ، فَقَالَ: «مَا تَصْنَعُونَ؟» قَالُوا: كُنَّا نَصْنَعُهُ، قَالَ: «لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا» فَتَرَكُوهُ، فَنَفَضَتْ أَوْ فَنَقَصَتْ، قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيِي، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ» قَالَ عِكْرِمَةُ: أَوْ نَحْوَ هَذَا. قَالَ الْمَعْقِرِيُّ: فَنَفَضَتْ وَلَمْ يَشُكَّ
کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان شریعت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فر ما یا اس پر عمل واجب ہے جہاں آپ نے دنیوی امور کے بارے میں محض اپنی را ئے کا اظہار فرما یا ہے(اس پر عمل واجب نہیں ) عبد اللہ بن رومی یمامی ،عباس بن عبد العظیم عنبری اور احمد بن جعفر معقری نے مجھے حدیث بیان کی، انھوں نے کہا :ہمیں نضر بن محمد نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی ،کہا:مجھے ابو نجاشی نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ،کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لا ئے تو (وہاں کے) لوگ کھجوروں میں قلم لگا تے تھے ،وہ کہا کرتے تھے (کہ) وہ گابھہ لگا تے ہیں ۔آپ نےفر ما یا :" تم کیا کرتے ہو۔؟انھوں نے کہا : ہم یہ کام کرتے آئے ہیں ۔آپ نے فرمایا :"اگر تم لو گ یہ کا م نہ کرو تو شاید بہتر ہو۔"اس پر ان لوگوں نے(ایساکرنا )چھوڑ دیا ،تو ان کا پھل گرگیا یا (کہا)کم ہوا ۔کہا: لو گوں نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا ئی تو آپ نے فر ما یا :"میں ایک بشر ہی تو ہوں ،جب میں تمھیں دین کی کسی بات کا حکم دوں تو اسے مضبوطی سے پکڑلواور جب میں تمھیں محض اپنی رائے سے کچھ کرنے کو کہوں تو میں بشر ہی تو ہوں ۔"عکرمہ نے (شک انداز میں ) کہا : یا اسی کے مانند (کچھ فرما یا ۔) معقری نے شک نہیں کیا، انھوں نے کہا " تو ان کا پھل گرگیا ۔"