صحيح مسلم - حدیث 6120

كِتَابُ الْفَضَائِلِ بَاب تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ وَنَحْوِ ذَلِكَ صحيح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ أَبِي؟ قَالَ: «أَبُوكَ فُلَانٌ» وَنَزَلَتْ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] تَمَامَ الْآيَةِ

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 6120

کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور آپ سے ایسے امور کے بارے میں بکثرت سوال کرنا جن کی ضرورت نہ ہو یا شریعت نے مکلف نہیں کیا اور پیش نہیں آئے اور اس طرح (کے بے مقصد سوالا ت )کو ترک کردینا روح بن عباد ہ نے ہمیں حدیث سنائی ،کہا ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی کہا : مجھے مو سیٰ بن انس نے خبر دی کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے۔ایک شخص نے پو چھا :اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرا باپ کون ہے ؟آپ نے فر ما یا :" تیرا باپ فلا ں ہے "پھر یہ آیت نازل ہو ئی :"اے ایمان لا نے والو! ان چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جو اگر تمھارے سامنے ظاہر کر دی جا ئیں تو تمھیں دکھ پہنچائیں ۔"مکمل آیت پڑھی ۔