كِتَابُ الْفَضَائِلِ بَاب تَوْقِيرِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرْكِ إِكْثَارِ سُؤَالِهِ عَمَّا لَا ضَرُورَةَ إِلَيْهِ أَوْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِ تَكْلِيفٌ وَمَا لَا يَقَعُ وَنَحْوِ ذَلِكَ صحيح وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، كِلَاهُمَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ «رَجُلٌ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ وَنَقَّرَ عَنْهُ» وَقَالَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدًا
کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور آپ سے ایسے امور کے بارے میں بکثرت سوال کرنا جن کی ضرورت نہ ہو یا شریعت نے مکلف نہیں کیا اور پیش نہیں آئے اور اس طرح (کے بے مقصد سوالا ت )کو ترک کردینا یو نس اور معمر دونوں نے اسی سند کے ساتھ زہری سے روایت کی اور معمر کی حدیث میں مزید بیان ہے۔"وہ آدمی جس نے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا اور اس کے بارے میں کریدا "اور یونس کی حدیث میں کہا :عا مر بن سعد (سے روایت ہے) انھوں نے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا۔