كِتَابُ الْفَضَائِلِ بَاب عِلْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ تَعَالَى وَشِدَّةِ خَشْيَتِهِ صحيح حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ: «مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ، فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَوَاللهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً»
کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان اللہ تعالیٰ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اورشدید خشیت رکھنا:۔ جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی،انھوں نے ابو ضحیٰ(مسلم) سے ،انھوں نے مسروق سے،انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ،انھوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کی اجازت عطا فرمائی آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں بعض کو یہ خبر پہنچی،انھوں نے گویا کہ اس(رخصت اور اجازت) کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا۔؛"ان لوگوں کا کیاحال ہے کہ جن کو خبر ملی کہ میں نے ایک کام کی اجازت دی ہے تو انھوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔اللہ کی قسم!میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اوراس(اللہ) کی خشیت میں ان سب سےبڑھ کر ہوں۔"