كِتَابُ الْفَضَائِلِ بَاب فِي صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَجْهًا صحيح حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: «مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَعْرُهُ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، لَيْسَ بِالطَّوِيلِ وَلَا بِالْقَصِيرِ» قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: لَهُ شَعَرٌ
کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات مبارکہ اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور تمام انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھا:۔ عمرو ناقد اور ابو کریب نے کہا:ہمیں وکیع نے سفیان سے حدیث بیان کی،انھوں نے ابو اسحاق سے،انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ،کہا:میں نے کسی د راز گیسوؤں والے شخص کو سرخ جوڑے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین نہیں دیکھا،آپ کے بال کندھوں کو چھوتے تھے،آپ کے دونوں کندھوں کے د رمیان فاصلہ تھا،قد بہت لمبا تھا نہ بہت چھوٹا تھا۔ ابو کریب نے کہا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ایسے تھے(جو کندھوں کو چھوتے تھے۔)