كِتَابُ الْفَضَائِلِ بَاب قُرْبِ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام مِنْ النَّاسِ وَتَبَرُّكِهِمْ بِهِ وَتَوَاضُعِهِ لَهُم صحيح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَالَ: «يَا أُمَّ فُلَانٍ انْظُرِي أَيَّ السِّكَكِ شِئْتِ، حَتَّى أَقْضِيَ لَكِ حَاجَتَكِ» فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ، حَتَّى فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا
کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں سے قرب،ان کا آپ سے برکت حاصل کرنا اور ان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع:۔ ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک عورت کی عقل میں کچھ نقص تھا(ایک دن) وہ کہنے لگی:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے آپ سے کام ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(بہت شفقت واحترام سے)فرمایا:"ام فلاں!دیکھو،جس گلی میں تم چاہو(کھڑی ہوجاؤ)میں(وہاں آکر) تمھارا کام کردوں گا۔"آپ ایک راستے میں اس سے الگ ملے،یہاں تک کہ اس نے اپنا کام کرلیا۔